کاروار:2/جنوری (ایس او نیوز) کنداپور کی سرحد سے گوا کی سرحد تک جاری قومی شاہراہ 66 کوفورلین میں تبدیل کرنے کے کام میں اکتوبر تک 64 فی صد کام مکمل ہوچکاہے، اور نیشنل ہائی وے کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مارچ تک کام تقریباً مکمل ہوجائے گا، البتہ جتنا کام باقی ہے اور جس رفتار سے کام ہورہا ہے، اُس پر ایک نظر دوڑائی جائے توایسا لگتا نہیں ہے کہ مارچ تک کام مکمل ہوجائے گا۔
قومی شاہراہ ترقی منصوبے کے 4 مرحلے میں 189کلومیٹر طویل شاہراہ کو فورلین میں منتقل کرنے کا ٹھیکہ ممبئی کی آر آئی بی کمپنی کے پاس ہے۔ کمپنی نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ساتھ 31جولائی 2012کو معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت 910 دنوں میں کام مکمل ہونا تھا، یعنی سال 2014کے آخر تک کام ہوجاناچاہئے تھا چونکہ منتقلی کاکام قریب ڈیڑھ سال بعد شروع ہوا اس تاخیر کی وجہ سے 2016ڈسمبر تک مہلت دی گئی تھی ، یہاں بھی بتایا گیا کہ گذشتہ موسم باراں میں پہاڑ کے کھسکنے جیسے واقعات کی بنا پر مزید 3 ماہ تک کام رکا ہواتھا، اس کے بعد اگست 2016 سے دوبارہ کام شروع ہواہے جس کے نتیجے میں اکتوبر 2016تک 64.90 فی صد کام مکمل ہواہے، ذرائع کے مطابق ہر ماہ 2 سے 3فی صد رقم کام کے لئے خرچ ہوتی ہے ، جنوری میں کام مزید تیز رفتاری سے ہونے کا امکان ہے، مارچ تک کل منصوبے کی رقم میں سے 70فی صد رقم خرچ ہونی ہے اور اگر مارچ تک کام مکمل ہوتا ہے تو پوری رقم خر چ کرنے کے امکانات ہیں۔ کل 189کلومیٹر لمبی شاہراہ پر 41 چھوٹے برج، 14بڑے برج ، 6 پل سے گزرنے والی سڑکیں، 4 سرنگ اور 2 فلائی اوورہیں۔ ،54 بس اسٹانڈ بھی منصوبے میں شامل تھے لیکن بعد میں اس میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں۔
کلی طورپر فورلین شاہراہ کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے، کچھ جگہوں پر کلومیٹر پر محیط سڑک کی تعمیر ہورہی ہے تو کچھ جگہوں پر ابھی تک زمین حصولیابی کا معاملہ حل طلب ہے، کاروار میں پیچیدگی ہے تو بھٹکل میں ابھی دیکھ ریکھ جاری ہے۔ ان سب کونظروں میں رکھتے ہوئے یہ دیکھنا اب باقی ہے کہ 189 کلو میٹر طویل شاہراہ فورلین میں کب منتقل ہوتی ہے۔